بنگلورو،24؍دسمبر (ایس او نیوز) کووڈ19- کی نئی قسم کی روک تھام کے لئے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے ریاست میں رات کے کرفیو کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس میں حکومت خود سنجیدہ نہیں۔ آج صبح یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 23 دسمبر کی شب ہی سے رات 10بجے سے اگلے دن صبح6بجے سخت کرفیو 2جنوری تک نافذ رہے گا۔
اس کے بعد شام ریاست کے چیف سکریٹری نے حکم جاری کیا کہ رات کا کرفیو رات 11بجے تا اگلے دن صبح5بجے تک نافذ رہے گا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ اور انتظامیہ کے درمیان تال میل کا فقدان ہے۔ پہلے یہ اعلان کیاگیا تھا کہ کرفیو کے دوران رات 10بجے کے بعد تمام ٹرانسپورٹ سروسز، ریسٹورنٹ وغیرہ بند رہیں گے پھر شام یہ اعلان کیاگیا کہ کرفیو کے دروان بسوں، ٹیکسی، ریل، ہوائی جہاز اورآٹو رکشا سروسز جاری رہے گی۔ ریسٹورنٹ بھی کھلے رہیں گے اور کارخنوں میں ملازمین کو کام کرنے کی اجازت بھی رہے گی۔ یہ سب سروسز رہیں گے تو لوگوں باہر نکلنا ہی پڑے گا تو پھر یہ کیسا کرفیو ہے؟
کرفیو کے دوران لوگوں کو باہر نکلنے سے منع کیاگیا ہے تو بسوں، ٹیکسیوں اور آٹو رکشاؤں، ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں میں سفر کون کرے گا؟ حکومت نے اپنے حکم نامہ میں کہیں بھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ صرف بیرونی مقامات سے ہوائی جہاز، ریل گاڑی یا بسوں سے سفر کرکے ریاست آنے والے ہی ٹیکسیوں اور آٹو رکشا کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کرفیو کے دوران ٹیکسی اور آٹو رکشا ڈرائیوروں کو ایرپورٹ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر ہی سواریوں و کا انتظار کرنا پڑے گا۔